3 جولائی 2012 - 19:30

بحرين ميں آل خليفہ حکومت کے خلاف عوام کے مظاہروں ميں ايسي حالت ميں شدت اور وسعت آئي ہے کہ انساني حقوق کي عالمي تنظيموں نے پر امن مظاہرين پر سيکورٹي اہلکاروں اور سعودي فوجيوں کے وحشيانہ حملوں پر سخت تشويش ظاہر کي ہے -

ابنا: المنار کے مطابق بحرين کے مختلف شہروں ميں عوام کے انقلابي مظاہروں ميں روز افزوں وسعت آرہي ہے - اگر چہ گزشتہ چند دنوں کے دوران بحريني سيکورٹي اہلکاروں اور سعودي فوجيوں نے مظاہرين پر حملوں ميں وسيع پيمانے پر زہريلي آنسو گيس کي شيلنگ اور براہ راست فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو زخمي کرديا ہے ، ليکن عوام کے مظاہرے روکنے ميں ناکام رہے ہيں - اس رپورٹ کے مطابق بدھ کو دارالحکومت منامہ اور سترہ سميت مختلف شہروں ميں عوام نے مظاہرے کئے اور آل خليفہ حکومت کے خاتمے اور ملک سے سعودي فوجيوں کي واپسي کا مطالبہ کيا-

  دوسري جانب انساني حقوق کي مختلف عالمي تنظيموں نے بحرين ميں مظاہرين کے ساتھ وحشيانہ تشدد پر تشويش ظاہر کي ہے

انساني حقوق کي عالمي تنظيم ہيومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل نے بحريني حکومت سے ملک ميں انساني حقوق کي پامالي کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کيا ہے - اسي کے ساتھ بعض يورپي ملکوں، جيسے، جرمني اور فرانس نے بحرين کے بارے ميں انساني حقوق کونسل کي تيار کردہ دستاويز پر دستخط کرتے ہوئے ، آل خليفہ حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ عوام کے انساني حقوق کا احترام کيا جائے -

  بحريني حکومت سے يہ مطالبہ ايسي حالت ميں کيا گيا ہے کہ اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل نے انساني حقوق کي عالمي تنظيموں کے نام اپنے مراسلے ميں، بحرين ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کي تفصيلي رپورٹ پيش کرتے ہوئے آل خليفہ حکومت کے خلاف سخت اقدام کي سفارش کي ہے -

  بحرين کے عوام نے فروري دو ہزار گيارہ ميں اپني انقلابي تحريک شروع کي اور اب تک انہوں نے پر امن مظاہرے کرکے اپنے مطالبات پيش کئے ہيں ليکن آل خليفہ حکومت نے تشدد سے کام ليتے ہوئے سيکڑوں افراد کو شہيد اور زخمي کرديا اور بڑي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا ہے-

  بحرين ميں مظاہروں کے دوران زخمي ہونے والوں کا علاج اور مرہم پٹي کرنے والے ڈاکٹروں اور ديگر ميڈيکل اسٹاف کے لوگوں کو بھي گرفتار کرکے جيل بھيج ديا جاتا ہے - اس کے علاوہ ہزاروں لوگوں کو مظاہروں ميں شرکت کے الزام ميں نوکريوں سے نکال ديا گيا ہے - اس کے ساتھ ہي اس مدت ميں بہت سي خواتين ، بچوں اور يونيورسٹي طلبا کو بھي پر امن مظاہروں ميں شرکت کے جرم پر گرفتار کرکے وحشيانہ ايذائيں دي گئيں اور گرفتار ہونے والے بہت سے لوگوں کے بارے ميں کچھ پتہ نہيں ہے کہ وہ کہاں اور کس حال ميں ہيں ،  ليکن اب تک کسي بھي عالمي ادارے نے اس سلسلے ميں سنجيدگي کے ساتھ کوئي اقدام نہيں کيا ہے -

ايسا لگتا ہے کہ عالمي اداروں ميں مغرب بالخصوص امريکا کا نفوذ آل خليفہ حکومت کے وحشيانہ جرائم پر ان اداروں کي خاموشي ميں غير موثر نہيں ہے - يہاں اس بات کا ذکر بھي ضروري ہے کہ بحرين کي ظالم آل خليفہ حکومت عوام کي سرکوبي ميں وہ اسلحے استعمال کررہي ہے جو اس کو انساني حقوق کي علمبرداري کے دعويدار امريکا اور برطانيہ نے ديئے ہيں -

بحرين سے موصولہ رپورٹيں بتاتي ہيں کہ اس ملک ميں حکومتي کارندوں کے ہاتھوں شہيد ہونے والوں ميں انتہائي سن رسيدہ افراد اور دس اور بيس دن کے نوازائيدہ بچے بھي شامل ہيں.......

/169